Friday, 12 May 2023

ماسٹر کرامت حسین جوگی (شخصی و علمی تعارف و حالات زندگی)

 ماسٹر کرامت حسین جوگی 

کرامت حسین جوگی کرم داد خان صاحب کے گھر 1928 کو موضع کلاہنہ تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی کلاہنہ کے مقامی سکول سے ہی حاصل کی اور جب آپ پانچویں جماعت میں پہنچے تو کہوٹہ ہائی سکول میں داخل ہو گئے۔ وہاں سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ 1944 میں جب آپ کی عمر سولہ سال تھی تو آپ گھر والوں سے چھپ کر برطانوی فوج میں بھرتی ہو گئے، فوج میں بچہ پارٹی میں دو سال ٹریننگ حاصل کی اور بہترین پی ٹی کورس بھی پاس کیا۔ آپ کو باکسنگ میں زیادہ دلچسپی تھی اور 1948 میں باکسنگ کے سلسلے میں آپ دہلی تک مقابلوں میں شرکت کے لیے گئے۔ دہلی میں آپ کا مقابلہ ایک سکھ کھلاڑی سے ہوا، اس سکھ نے فاول مُکا ان کی پسلیوں میں مارا، وہی چوٹ 12 برس بعد میں آپ کی وفات کا سبب بنی۔ 1948 میں آپ 14 نمبر ہسپتال موجودہ ایم ایچ راولپنڈی میں تین ماہ زیر علاج رہنے کے بعد صحتیاب ہو کر گھر واپس آ گئے۔ 1951آپ فوج سے ان فٹ ہو کے ریٹائر ہو کر گھر واپس آ گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ ہوتھلہ پرائمری سکول میں استاد کے طور پر بھرتی ہوئے اور 1952 میں آپ کی ٹرانسفر کہوٹہ ہائی سکول میں ہو گئی۔ 1952 میں پھر آپ کی بیماری پھر سے عود آئی، گو کہ آپ انگریزی دوا لینے سے پھر صحتیاب ہو گئے، لیکن ڈاکٹر اکثر آپ کو پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے تھے، لیکن جوگی صاحب ہر شغل میں حصہ لینے والے انسان تھے، کبڈی کے بہترین کھلاڑی تھے اور بیل دوڑانا بھی آپ کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ستار بجانا بھی آپ کے مشغلے میں شامل ہو گیا، آپ پنجابی پوٹھوہاری کے ایک اچھے شاعر تھے۔ آپ نے زندگی کے آخری حصے میں بہت سبق آموز شعر کہے۔ بالآخر 18 جنوری 1960 کو رات کے وقت جب سوائے خدا کی ذات کے علاوہ کوئی اور بندہ آپ کے پاس موجود نہ تھا، اس وقت آپ کو ایک خونی قے ہوئی، اسی قے کے ساتھ ہی کی آپ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔

نمونۂ کلام

حبشی بلال کمال عاشق

راہِ عشق وچ حوصلہ سنبھال ٹریا

چربی پگھل وجود تھیں باہر نکلی

تاں بھی یار ول شوق دے نال ٹریا

آیا باز نہ کافراں دے ستم کولوں

حُبِ یار وچ ہو کے بے حال ٹریا

آخر منزل مقصود تک پہنچ جوگی

وصل یار سنگ ہو کے مالا مال ٹریا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سسی نہ ٹری وچ ریت اتنی

جتنا ریت وچ حضرت بلال ٹریا

لیٹ پیٹھ دے ول وچ ریت یارو

ایسا کوئی نہ مائی دا لال ٹریا

رکھ کے صدق یقین آمین کیتی

حوصلہ اچا کر حبشی کمال ٹریا

عاشق احمد مختار دا جوگیا وے

وانگ مچھلی دے تڑفدا وچ جال ٹریا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایسا فتور کوئی عشق اندر

گھر وسدیاں دے چُہگے جھلا چھوڑے

ماں باپ تے ہور آشنا سارے

مستی عشق وچ عاشقاں بھلا چھوڑے

کیتے سخت فریب اس نال کئیاں

کئیاں دے ستیاں یار گنوا چھوڑے

تیری کی مجال ہے جوگیا وے

تیرے سنگ جے یار نوں ملا چھوڑے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مرتب؛ فخر عباس جعفری

No comments:

Post a Comment

Note: only a member of this blog may post a comment.