پنجابی پوٹھواری پوٹھوہاری پہاڑی شاعری
عالم الغیب تے ظاہر باطن
ہے جو حاضر موجود اوہ میرا رب اے
الرحمٰن الرحیم ہے ذات جس دی
خاطر لائقِ سجود اوہ میرا رب اے
ارض و فلک اتے جس دیاں رحمتاں دی
نئیں کوئی حد محدود اوہ میرا رب اے
پنجابی پوٹھواری پوٹھوہاری پہاڑی شاعری
عالم الغیب تے ظاہر باطن
ہے جو حاضر موجود اوہ میرا رب اے
الرحمٰن الرحیم ہے ذات جس دی
خاطر لائقِ سجود اوہ میرا رب اے
ارض و فلک اتے جس دیاں رحمتاں دی
نئیں کوئی حد محدود اوہ میرا رب اے
پنجابی پوٹھواری پوٹھوہاری پہاڑی شاعری
شک نئیں اسدے وچ مول کوئی
اللہ آپ مدح خوان محمدﷺ دا اے
پڑھ کے ویکھ لیو پاک قرآن اندر
لکھیا سارا بیان محمدﷺ دا اے
عرش فرش تھیں تحت الثرٰی توڑی
ذرے ذرے وچ شان محمدﷺ دا اے
سائیں محمد محفوظ
سائیں محمد محفوظ 1953 کو کرم داد کے ہاں گاؤں تلنی، مٹور تحصیل کہوٹہ میں پیدا ہوئے. ابتدائی تعلیم مٹور سکول سے حاصل کی اور دینی تعلیم اپنے گاوں تلنی سے حاصل کی. گھریلو مسائل اور غربت کی وجہ سے مڈل تک تعلیم حاصل کر سکے اور سکول چھوڑ دیا۔ 3 اپریل 1973 کو پاک فوج میں سپاہی رینک پر بھرتی ہو گئے اور آٹھ سال سروس کرنے کے بعد 09 فروری1981 فوج سے ڈسچارج ہو گئے۔ حصولِ رزق کی تلاش میں بیرون ملک اومان (مسقط۔ صلالہ) کا سفر کیا پر حالات سازگار نہ ہو سکے اور کچھ عرصہ کے بعد ( تقریباً چار سال ) پاکستان واپس آ گئے۔ رزق حلال کے حصول کے لیے آر سی کولا (سہالہ ہمک) میں ملازمت اختیار کی، لیکن جلد ہی ترک کر دی اور گاؤں میں سبزی کی دکان رکھ لی، لیکن زمانے کی ستم ظریفی کہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد مٹور میں پی سی او پر کام کرنے لگے، لیکن ایک مزاج کی سادگی کی اور یرقان کا مرض لاحق ہونے سے یہ کام بھی چھوڑنا پڑا اور یہی مرض ان کی وفات کا سبب بنا اور بالآخر مورخہ 29 مارچ 2001 کو خطۂ پوٹھوہار کا یہ درخشاں ستارہ ہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ آپ اپنے گاؤں تلنی کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ سائیں محفوظ مرحوم نے جہاں سینکڑوں مداحوں کو سوگوار چھوڑا وہاں ان کے لواحقین میں ان کی بیوہ چار بیٹیاں اور ایک بیٹا محسن شامل ہیں۔
آئی عید تے دوستاں ساریاں نُوں
طرفوں دوستاں خاص پیغام آئے
بھیجے دلبراں نے تحفے دلبراں نوں
بھرے نال محبتاں سلام آئے
ساڈا وِچھڑیاں نال نہ میل ہویا
اج وی لباں تے جنہاں نے نام آئے