Friday, 12 May 2023

سائیں محمد محفوظ (شخصی و علمی تعارف و حالات زندگی)

 سائیں محمد محفوظ 

سائیں محمد محفوظ 1953  کو کرم داد کے ہاں گاؤں تلنی، مٹور تحصیل کہوٹہ میں پیدا ہوئے. ابتدائی تعلیم مٹور سکول سے حاصل کی اور دینی تعلیم اپنے گاوں تلنی سے حاصل کی. گھریلو مسائل اور غربت کی وجہ سے مڈل تک تعلیم حاصل کر سکے اور سکول چھوڑ دیا۔ 3 اپریل 1973 کو پاک فوج میں سپاہی رینک پر بھرتی ہو گئے اور آٹھ سال سروس کرنے کے بعد 09 فروری1981 فوج سے ڈسچارج ہو گئے۔ حصولِ رزق کی تلاش میں بیرون ملک اومان (مسقط۔ صلالہ) کا سفر کیا پر حالات سازگار نہ ہو سکے اور کچھ عرصہ کے بعد ( تقریباً چار سال ) پاکستان واپس آ گئے۔ رزق حلال کے حصول کے لیے آر سی کولا (سہالہ ہمک)  میں ملازمت اختیار کی، لیکن جلد ہی ترک کر دی اور گاؤں میں سبزی کی دکان رکھ لی، لیکن زمانے کی ستم ظریفی کہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد مٹور میں پی سی او پر کام کرنے لگے، لیکن  ایک مزاج کی سادگی کی اور  یرقان کا مرض لاحق ہونے سے یہ کام بھی چھوڑنا پڑا اور یہی مرض ان کی وفات کا سبب بنا اور بالآخر مورخہ 29 مارچ 2001 کو خطۂ پوٹھوہار کا یہ درخشاں ستارہ ہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ آپ اپنے گاؤں تلنی کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ سائیں محفوظ مرحوم نے جہاں سینکڑوں مداحوں کو سوگوار چھوڑا وہاں ان کے لواحقین میں ان کی بیوہ چار بیٹیاں اور ایک بیٹا محسن شامل ہیں۔

آپ کے شاگردوں کے  بارے میں کچھ خاص معلومات حاصل نہ ہو سکیں، لیکن راجہ علی اصغر پروانہ موضع کھلول آپ کے قلمی شاگرد ہیں اور انہیں کے توسط سے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ کے ایک شاگرد بیول کے رہنے والے بھی ہیں لیکن ان کا نام معلوم نہ ہو سکا۔ آپ نے "شاماں پے گئیاں" شعر سے بہت شہرت پائی۔ تا حال آپ کا کوئی مجموعہ منظر عام پر نہ آ سکا۔

نمونۂ پنجابی پوٹھواری کلام


عالم الغیب تے ظاہر باطن

ہے جو حاضر موجود اوہ میرا رب اے

الرحمٰن الرحیم ہے ذات جس دی

خاطر لائقِ سجود اوہ میرا رب اے

ارض و فلک اتے جسدیاں رحمتاں دی

نئیں کوئی حد محدود اوہ میرا رب اے

سوہنے نبی دے اتے محفوظ جیہڑا

پڑھدا رہندا درود اوہ میرا رب اے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شک نئیں اسدے وچ مول کوئی

اللہ آپ مدح خوان محمد دا اے

پڑھ کے ویکھ لیو پاک قرآن اندر

لکھیا سارا بیان محمد دا اے

عرش فرش تھیں تحت الثرٰی توڑی

زرے ذرے وچ شان محمد دا اے

نبی ولی محفوظ محتاج اسدے

جبرائیل دربان محمد دا اے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نمونۂ اردو کلام


پسر بتول دا صبر ویکھو

لاکھوں تیر پیوست وجود میں تھے

خون جاری تھا ان کو خبر نہ تھی

جب  مصروف وہ  یاد معبود میں تھے

خوفزدہ تھا کتنا یزید ظالم

اتنے حوصلے نہ اس مردود میں تھے

روبرو نہ آیا محفوظ ان کے

کیا وار جب آقا سجود میں تھے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خوشگوار ہے موسم حسین کیسا

کیا ہوا میں پتے لہرا رہے ہیں

چہک مہک ہے عجب گلزار اندر

جیسے گیت پرندے کوئی گا رہے ہیں

چار سو سے آتی خوشبو بھی ہے

جیسے پھول جوانی میں آ رہے ہیں

ہے افسوس محفوظ معلوم نہ تھا

ہم اس فانی جہان سے جا رہے ہیں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مرتب؛ فخر عباس جعفری

پنجابی پوٹھواری پوٹھوہاری پہاڑی شاعری

No comments:

Post a Comment

Note: only a member of this blog may post a comment.