Friday, 12 May 2023

سائیں محمد فیاض ویران (شخصی و علمی تعارف و حالات زندگی)

سائیں محمد فیاض ویران

سائیں محمد فیاض ویران 25 مئی 1948 کو ماسٹر کریم داد مرحوم کے گھر غازی محلہ اوپری بنی بمقام میرا مٹور، تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ راجہ کریم داد مرحوم کے تین بیٹے ماسٹر محمد الیاس، سائیں محمد فیاض ویران اور راجہ محمد اخلاص ہیں۔ آپ نے پرائمری تک تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول میرا مٹور سے اور مزید تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول مٹور سے حاصل کی۔ تعلیم کے بعد کچھ وقت سماجی رابطے میں گزارا۔ آپ کے واقفان حال کہتے ہیں بوسکی کی قمیض اور لٹھے کی شلوار اور نیچے تلے والی جوتی پہنتے تھے۔ انتہائی سنجیدہ گفتگو کرتے تھے، آپ کو بچپن سے ہی بزرگانِ دین کی زیارت مقدسہ کا بہت شوق تھا۔ اکثر اللہ والوں کی محفلوں میں علمی پیاس بجھانے کے لیے حاضری دیتے رہتے تھے۔ سائیں ویران صاحب کو پنجابی، پوٹھوہاری شاعری کا بچپن سے بہت شوق تھا۔ آپ نے آٹھویں جماعت میں ہی پنجابی پوٹھوہاری شاعری شروع کر دی تھی۔ اس وقت سے اب تک آپ سائیں ویران کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کا کلام راجہ معروف آف پنگالہ موضع میرا، جو کہ آپ کے دوست ہیں کے پاس موجود ہے۔ اس کے علاوہ عبدالحمید آف بھگون، چیف ظہور صاحب، صاحبزادہ فارس آف بگہار شریف اور کچھ کلام راجہ گلفام پرویز مرحوم کے پاس محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ آپ دیگر عقیدت مندوں کو بھی اپنا کلام کاغذات اور سگریٹ کی ڈبیوں پہ لکھ کر کے دیتے رہتے تھے.

جب 1965 کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو جذبۂ جہاد کے سرشار ہو کر آپ پاکستان آرمی میں بھرتی ہو گئے اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی. ٹریننگ مکمل  ہونے کے بعد ان کی پوسٹنگ فرسٹ ایف ایف رجمنٹ میں ہو گئی۔ فرسٹ ایف ایف رجمنٹ میں ان کے بڑے بھائی حوالدار محمد الیاس بھی اسی رجمنٹ میں تعینات تھے۔ آپ کو چونکہ کھیلوں کا شوق تھا، اس لیے باکسنگ کھیلنی شروع کی اور ایک اچھے فائٹر بھی بنے۔

ایک جگہ فرماتے ہیں 

پنجتن پاک دی مدد ویران سانوں 

فوج ہندواں دی پیچھے ہٹی رہی اے

آپ ہر جمعرات کو ملتان میں قاسم قلعہ کے قرب و جوار میں واقع اولیاء کرام کے مزارات مقدسہ پر حاضری دیتے تھے وہیں سے آپ کا رجحان تصوف کی جانب مبذول ہوا۔ آپ نے اچانک فوج سے ڈسچارج لینے کا ارادہ کر لیا اور اپنے ماموں (راجہ محمد یامین جو کہ انگلینڈ میں تھے) کو خط لکھا کہ فوراً میرا ڈسچارج کرایا جائے، آخر 1969 میں ڈسچارج منظور ہوا اور ماموں سے کہا آپ مجھے بکریاں لے کر دیں، ڈیڑھ سال تک آپ نے صرف بکریاں چرائیں۔ اس دوران پانی بھر کے لے جاتے اور مسافروں کے لیے دو مٹکے روزانہ بھر کر پینے کے لیے رکھ دیتے۔ بس جب جی بھر گیا تو والد صاحب سے گزارش کی کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت پوری کر دی ہے، اب آپ چاہے بکریاں رکھیں یا فروخت کر دیں. 1971 کی پاک بھارت جنگ میں شرکت کے دوران آپ کا پاؤں زخمی ہو گیا، 1973 میں واپس گھر آ گئے.

آپ کو صوفیا سے بے حد عقیدت تھی بالخصوص بابا غلام بادشاہ آف نوتھیہ شریف جس کا اظہار آپ نے اپنی شاعری میں متعدد بار کیا ہے؛


پنجاں دا جگر وچ ڈال پنجہ

مقتدی میں باراں اماماں دا آں

مینوں تاج سکندری چاہی دا نہیں

طلبگار بس وحدت دے جاماں دا آں

میں بے خبر ہر خیر ہر کار کولوں 

منتظر نہ صبح نہ شاماں دا آں 

نتھ والا ہے نام ویران جس دا

میں غلام بس اس دے غلاماں دا آں

لہندی طرف تڑفے روح ہر دم

سوچ کوئے دربار طواف کردی

نتھڑی والے دی مہ سرور والی

میرے دل و دماغ نوں ساف کردی

میں غلام نوتھیہ دربار دا آں

خلقت ساری اس گل دا اعتراف کردی

حسن و عشق دے کھیڈ ویران ساری

عین و شین کردی، شین و قاف کردی


سائیں صاحب نے 1975 میں تھوہا خالصہ سائیں تاج سرکار کے مزار پر حاضری دی اور رات بھر پوٹھوہاری شعر خوانی سنتے رہے اور صبح تقریباً گیارہ بجے ایک آدمی نے آ کر گھر پر اطلاع دی کہ سائیں ویران صاحب ہوٹل میں بیٹھے رو رہے ہیں اس خبر کو سن کر چھوٹے بھائی راجہ محمد اخلاص انہیں ساتھ گھر لے آئے۔ گھر میں آ کر چپ چاپ رہے اور ایک کاغذ پر لکھا؛ "میں بول نہیں سکتا اس لیے مجھے میرے حال پر چھوڑ دو" 

اپنی ضرورت صرف کاغذ پر لکھتے، اس کے بعد کچھ عرصہ کھانا پینا ترک کر دیا۔ ایک جگہ فرماتے ہیں؛


مٹ گئے یارو او شوق میرے

مٹ گئی حسرت تے خالی ارمان رہ گئے

کھویا کھویا ایہ دل ہمیش رہنا

شاید یاداں نے چند نشان رہ گئے

میں ساحل دی کیویں امید رکھاں

چڑھے زندگی وچ سدا طوفان رہ گئے

حسبِ کسب بس ائیو ویران اپنا

آئے ویران ساں اگے ویران رہ گئے


آپ کا معمول بن گیا تھا کہ روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے چھت پر پرندوں کو ڈال دیتے اور پرندوں کو کھاتا دیکھ کر خوش ہوتے اور پھر یہ ان کا رومزہ کا معمول بن گیا۔ دن میں کئی کئی بار غسل کرتے نالہ/کَسی سے موٹے موٹے پتھر گھر اٹھا لاتے اور ان پتھروں پر آرام کرتے۔ چائے اور سگریٹ پینے شروع کر دئیے۔ میاں محمد بخش کی کتاب سیف الملوک اور داتا گنج بخش کی کتاب کشف المحجوب کا مطالعہ کرتے رہتے۔ آپ کو علاج کی غرض سے مینٹل ہسپتال لاہور میں بھی داخل کرایا گیا وہاں سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ 1978 میں قصور جا کر خواجہ صوفی محمد نقیب اللہ شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور تین ماہ تک آستانہ عالیہ قصور میں قیام پذیر رہے اور وہاں مسجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور  اس کے بعد گھر واپس آ کر مکمل طور پر گوشہ نشین ہو گئے۔


عشق کتاب دیا قاریا وے

ڈُونگھا مشکل تے اوکھا عنوان نہ بن

اسے شوق وچ اُجڑ گے کہار کتنے

نفع نفعے وچ رکھ نقصان نہ بن

طعنہ بازی مناسب نہیں عمر ساری

اپنی زندگی لئی آپ بہتان نہ بن

اوکھا سفر ویران ویرانیاں دا

سب کج بن پر یار ویران نہ بن


راقم (فخر عباس جعفری) کو دو دفعہ دو ہزار بارہ اور دو ہزار تیرہ میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کا وصال 31 دسمبر 2022 کو ہوا اور آپ کی نماز جنازہ یکم جنوری 2023 کو  دن ایک بجے ادا کی گئی۔ آپ کی نمازِ جنازہ صاحبزادہ سائیں نعیم احمد سجادہ نشین دربار عالیہ بانٹھ شریف نے پڑھائی۔ جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی، آپ کی تربت آپ کی ذاتی زمین سامٹھی روڈ موضع میرا مٹور تحصیل کہوٹہ ضلع راولپنڈی میں بنائی گئی ہے۔

نمونۂ کلام


حرص دنیا مردار دی ختم کر کے

ہتھیں سر غرور دا قلم کرکے

کسے گل وچ مول نہ شرم کر کے

بھنے بت سارے من مندری دے

فیر مرشد نوں جا کے پکاریا میں

اُس دا نام نہ لبوں وساریا میں

اپنے من دی میں نوں ماریا میں

تاں فیر لبھے انداز سکندری دے      

قدم قدم اُتے آنہاں دا سنگ رہیا

راہ ٹردیاں نہ بالکل تنگ رہیا

دل دا باغ سدا رنگا رنگ رہیا

دساں راز کی اندر و اندری دے

حضرت موسیٰ نوں عشقے کوہ طور کھڑیا

اُتے سولی نے شاہ منصور کھڑیا

تے ویران نوں نالے بہوں دور کھڑیا

دے کے ہتھ وچ تاج قلندری دے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کی کی میں کر کے بیان دساں

کتھے کتھے تیرے لگے نشان دساں

کھڑیا موسیٰ نوں تُوں کوہ طور اتے

کہیڑا رحم تُو کیتا منصور اتے

عشقا تُو ڈاہڈا تیری ذات ڈاہڈی

کربل وچ حسین پہنچائے تُو نے

تے پیاسے معصوم کہوائے تُو نے

طرح طرح نا ستم کیتا ای

ویر صغریٰ دے نالوں جدا کیتا ای

عشقا تُو ڈاہڈا تیری ذات ڈاہڈی

کردا مجنوں بے چارا فریاد مویا

کیہڑے حال دے وچ فرہاد مویا

پٹ چیر کباب بنان لگا

تخت چھوڑ کے منجھاں چران لگا

عشقا تُو ڈاہڈا تیری ذات ڈاہڈی

جسدے پچھے تُو عشقا پیونا ایں

اسدے سخت امتحان تُو لیونا ایں

سوہنی روہڑی آ سوہنا جانان لبھدی

موئی سسی ویران پنوں خان لبھدی

عشقا تُو ڈاہڈا تیری ذات ڈاہڈی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آشیانے نوں بجلیاں ساڑ گئیاں

راکھ نال بکھیر ہوا لے گئی

ہو گئی ہستی دی بستی فنا ساری

سپنا نیند اندر چشم وا لے گئی

زیر نظر علوم تمام رہ گئے

بے پروائی کر بے پرواہ لے گئی

دست قاتل پر قلم ویران میری

سر رکھ کے سر نوا لے گئی

کڈھ کے ہوش تھیں مینوں جنون اندر

مستی عشق دی مینوں اٹھا لے گئی

رہی کرم نوازی اک یاد تیری

باقی ہور ایہ سب کج پُلا لے گئی

فر ڈولی نہ کشتی طوفان اندر

کشتی تان ہی طوفان بنا لے گئی

کٹ گئی گردن ویران افسوس نہیں ہے

طلب گور مقصود دی جا لے گئی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رنگت شام ویلے پے گٸی جام شاہی

اج دی شام اس شام نہیں فیر آونا

اوہ صبح سی یار میں شام سمجھی

پے گٸی شام اس جام نہیں فیر آونا

شام شام نوں کر کے شام گیا

الوداعی طعام نہیں فیر آونا

اس عاجز ویران درویش ولوں

اے لئیو آخری سلام نہیں  فیر آونا


مرتب؛ فخر عباس جعفری 

No comments:

Post a Comment

Note: only a member of this blog may post a comment.