ماسٹر شریف نثار مرتضوی
راجہ محمد شریف جنجوعہ 1928 کو راجہ کالا خان جنجوعہ کے گھر موہڑہ راجوال تھوہا خالصہ، تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے تھوہا خالصہ کے مڈل سکول سے مڈل تک تعلیم حاصل کی جو کہ اس وقت کے لحاظ سے قدرے بہتر تعلیم سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے بھی کہ اس وقت اس علاقے میں بہت کم لوگ پڑھے لکھے ہوتے تھے۔ ان کے سکول کے زیادہ تر ٹیچر ہندو ہی تھے۔ مسلمان استاد خال خال ہی تھے جن میں سے ایک استاد تھوہا خالصہ گاؤں کے ہی زمان علی مرحوم تھے۔ ماسٹر شریف نثار صاحب حصول علم کے بعد 1950 کے دوران سکول ٹیچر بھرتی ہو گئے۔ انہوں نے تھوہا خالصہ، مٹور، کلر سیداں، بھورا حیال اور بھلاکر کے علاقے کے سکولوں میں ٹیچنگ کے فرائض سرانجام دئیے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قومیائے گئے عزیز نیشنل ہائی سکول لالکڑتی راولپنڈی میں بھی ٹیچنگ کے فرائض سر انجام دئیے، آپ تقریباً 35 سال تک شعبۂ تعلیم سے منسلک رہے۔ آپ 80 کی دہائی میں ریٹائر ہو گئے، ریٹائرمنٹ کے بعد ماسٹر نثار صاحب اپنے محلے کے بچوں کو قرآن کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ ماسٹر صاحب کو پنجابی، پوٹھوہاری، اردو اور فارسی کے علاوہ عربی پہ بھی کافی حد تک عبور حاصل تھا۔ بظاہر ان کی سکول کی تعلیم مڈل تھی، لیکن بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ اور عالم ان کی علمیت کا دم بھرتے تھے۔ ماسٹر صاحب نے پنجابی، پوٹھوہاری کے علاوہ اردو اور فارسی میں بھی شاعری کی ہے۔ انہوں نے شروع میں کچھ شعر زخمی تخلص سے لکھے
ایک شعر زخمی تخلص سے
زخمی نال. مہربانیاں جو کیتیاں نی
نادم چُلو بھر پانی میں ڈوب مر جاں
پھر کچھ عرصہ شریف تخلص سے اشعار کہے؛
اللہ نا شیر دلیر غازی
علی وارث ہے نبی دے خزانیاں دا
علی نبی دا مظہر العجائب بے شک
ساقی کوثر تسنیم دے جانیاں دا
کردا کعبے نوں بتاں تو پاک علیؑ
ہے سوار رسول دے شانیاں دا
واہ واہ علیؑ دا شان شریف اعلیٰ
کھانا کھائے معراج دئیاں کھانیاں دا
بعد میں نثار تخلص سے زیادہ شاعری کی ایک روایت بقول جناب حبیب شاہ صاحب کے مطابق ماسٹر نثار صاحب کے شاعری میں استاد عبدالحمید عدم تھے، ماسٹر صاحب کی تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں
٭گوہر نایاب
٭دردِ دل
٭دُر نجف
اس کے علاوہ بھی ان کا بہت سا کلام اب بھی موجود ہے جو گو کہ ابھی تک کتابی شکل میں شائع نہیں ہو سکا، لیکن پوٹھوہار کی ادبی شعری محفلوں میں مختلف شعرخوانوں کی جانب سے بارہا پیش کیا جا چکا ہے۔ ماسٹر نثار صاحب کا زیادہ تر کلام پروفیسر موسیقی چوہدری اکرم گجر آف مانکیالہ اور باوا رضا شاہ صاحب آف کنگوٹہ سہالہ، فضل داد جھلا آف مورگارہ، قاضی عبدالواحد صاحب، راجہ گلفام آف پنگالہ مٹور نے اپنی محافل میں پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ آج بھی راجہ عابد صاحب آف مانکراہ، راجہ ساجد صاحب آف کاہلیاں ساہلیاں، راجہ عابد ضمیر آف سہوٹ، چوہدری احتشام اکرم گجر آف مانکیالہ، خان مجتبی آف مری، ماسٹر عبدالشکور آف دینہ جہلم، فرحت عباس آف چراہ، حافظ قیصر صاحب آف کلر، اپنی محافل میں پیش کرتے ہیں اور ان کے چاہنے والے ان کے کلام کو بغور سنتے اور اس سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ ان کے شاگرد جناب اخلاق جانسر آف ممیام کے مطابق 1998 میں گوجرخان محفل کے دوران جہاں جناب صائم چشتی صاحب آف فیصل آباد بھی موجودہ تھے چوہدری اکرم گجر صاحب نے ایک شعر پیش کیا وہ شعر یہ تھا
آ بتاؤں تجھے حق کیا ہے؟
کیونکہ آج اعتراض سر بستہ ہے یہ
ذکر آل رسول کریمﷺ کا ذکر
ذکر حق سے ذکر پیوستہ ہے یہ
جسے لوگ ہیں پنجتن پاک کہتے
نوری پھولوں کا اک گلدستہ ہے یہ
میں حق کی قسم کھا کے نثار کہتا
فقط جنت میں جانے کا رستہ ہے یہ
تو جناب صائم چشتی صاحب سٹیج پر گئے اور چوہدری اکرم صاحب سے یہ شعر دوبارہ پیش کرنے کی فرمائش کی چوہدری صاحب نے جب دوسری دفعہ شعر پیش کیا تو صائم چشتی صاحب نے سٹیج پہ جا کر کہا کہ پوٹھوہار کی دھرتی پر محمدﷺ اور آل محمدﷺ کی شان اگر شاعری کے انداز میں بیان کی ہے تو سب سے اچھی ماسٹر نثار صاحب نے بیان کی ہے۔ آپ نے پوٹھوہاری چومصرعے کی شکل میں اس شاعری کو پہلی دفعہ اردو میں لکھا۔
ان کے شاعری میں شاگردان کے نامِ نامی درج ذیل ہیں؛
٭جناب اخلاق جانسر آف ممیام، ضلع راولپنڈی
٭جناب سائیں ظفر غمگین صاحب آف آزاد کشمیر
٭جناب پرویز ساگر آف موہڑہ راجوال تھوہا خالصہ
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے احباب ماسٹر صاحب کو شاعری میں اپنا استاد مانتے ہیں۔ ماسٹر صاحب کی نرینہ اولاد نہیں تھی، ایک بیٹی تھیں جن کی شادی شاہ باغ کے نزدیک ڈیرہ خالصہ سادات میں ہوئی۔ ماسٹر صاحب نے زندگی کے آخری ایام اپنے بھتیجوں راجہ سجاد جنجوعہ اور راجہ حماد جنجوعہ کے ساتھ گزارے۔ ماسٹر صاحب نے 30 جنوری 2001 بروز منگل 73 سال کی زندگی میں اس دنیائے فانی سے پردہ کیا۔ اللہ پاک صدقہ محمدﷺ و آل محمدﷺ ان کی قبر و حشر کی منازل آسان فرمائے، آمین۔
زندگی برس ہزار ہووے
جو بھی آئے ایتھے آخر کار گئے
دو جگ جنہاں دی خاطر تخلیق ہوئے
او بھی رے نہ چلے سرکار گئے
درِ آل محمد پہ جھک گئے جو
او عاقبت اپنی سنوار گئے
خوش نہ آیا نثار نہ گیا کوئی خوش
اشک بار آئے اشک بار گئے
مرتب؛ فخر عباس جعفری
No comments:
Post a Comment
Note: only a member of this blog may post a comment.