پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی
پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی صاحب 4 اپریل 1954 کو مولانا محمد صادق صاحب کے ہاں، موضع بھون، تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی کے مشہور عباسی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں سے ہی حاصل کی، جہاں ان کے استاد راجہ محمد اسلم آف بروالہ تھے، بعد ازاں آپ نے میڑک مغل ہائی سکول سے کیا۔ آپ نے پانچ مضامین میں ایم اے کیا ہوا تھا اور ہر ایم اے میں ان کو امتیازی حیثیت حاصل رہی
1.M.A English
2.M.A Persian
3.M.A Urdu
4.M.A Arabic
5.M.A History
اس کے علاوہ آپ نے ایم فِل اقبالیات کا مقالہ
”علامہ اقبال کی فارسی نظم گوئی“
کے عنوان سے تحریر کیا۔
آپ کا پی ایچ ڈی کا ایک اور مقالہ بعنوان
The English Translation of Iqbal Poetry
کے نام سے بزم اقبال لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔ مؤخرالذکر مقالے پر انہیں 2001 میں اقبال ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ اقبالیات کے علاوہ انہوں نے دوسری پی ایچ ڈی کولمبو یونیورسٹی سے
"Usui Reiki and the Islamic Concepts of Spirintual Healing"
کے موضوع پر لکھ کر کی۔ جس پر آپ کولمبو یونیورسٹی سے گولڈ میڈل مل چکا ہے۔ آپ نے کلیات اقبال کا پہلی دفعہ انگریزی ترجمہ کیا۔ آپ کی تصانیف میں؛
٭برگ و ثمر
٭ خطبات عبدالغنی جناب قاضی آصف صاحب نے ترتیب دئیے
آپ نے 19 دسمبر 2013 میں اس دنیا فانی سے پردہ فرمایا۔
مجھ پہ میرے بعد تحقیق کرے گی دنیا
مجھ کو سمجھیں گے میرے بعد زمانے والے
نمونۂ کلام
شام ویلے پیچھے بدلاں نے
مہ اختر تے حسنِ ہلال چُھپے
کالی رات تے غم دے مہیب سائے
تارے وانگ ہر اہل کمال چُھپے
کم ظرف زمانہ بنائےے پردے
بزمِ ہستی ناں سارا جمال چُھپے
غنی عجب نیرنگیاں دہر دیاں
دیکھو کنکراں وچ کیویں لعل چُھپے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شب تاریک پر درد سینہ
نور بدن دے لکھاں خیال گزرے
رہیا چمن ہریالی دے بعد سڑدا
ڈالی ڈالی پہ سو سو وبال گزرے
اسی تڑپدے روندے فریاد کردے
تیرے شہر تھیں ہو کے بے حال گزرے
مولا اجے نہ بدلی تقدیر میری
خون روندیاں غنی کئی سال گزرے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مرتب؛ فخر عباس جعفری
No comments:
Post a Comment
Note: only a member of this blog may post a comment.