بابا شیر زمان مرزا
بابا شیرزمان مرزا 22 جون 1924 کو جناب صوبہ خان صاحب کے گھر بمقام سکرانہ تحصیل کلرسیداں سابقہ تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے، آپ کا تعلق قوم گگھڑ آدمال سے تھا۔ آپ نے پرائمری تک ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سکرانہ سے حاصل کی، پھر مڈل چوآ خالصہ اور 1942 میں کلرسیداں سے میٹرک پاس کیا، دینی تعلیم اپنے گاؤں سے ہی حاصل کی۔ آپ کی اولاد میں تین بیٹے؛ ناصر محمود کیانی، آصف محمود کیانی مرحوم، یاسر محمود کیانی اور ایک بیٹی قمر سلطانہ مرحومہ شامل ہیں۔ علاقے کی روایات کے عین مطابق آپ برٹش آرمی بھرتی ہو گئے اور بعد ازاں پاک آرمی سے بطور صوبیدار ریٹائرڈ ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد دوران سروس 1959 میں پاک آرمی کی طرف سے کورس کے لیے امریکہ بھجوائے گئے، جہاں 24 ممالک کے مقابلے میں آپ نے اول پوزیشن حاصل کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 28 سال کا زیادہ تر عرصہ مجاہدہ اور عالمِ جذب میں گزرا، آپ اپنے گاؤں کے قریبی جنگل میں چلے جاتے اور شام ڈھلے وہاں سے واپس لوٹتے۔ شاعری کا آغاز اوائلِ شباب میں 1940 کے لگ بھگ کیا۔ آپ شاعری میں تخلص مرزا استعمال کرتے تھے اور بعد ازاں آپ نے پہلے تخلص کے ساتھ فقیر کا اضافہ کیا "فقیر مرزا" جو بعد ازاں بعض شعراء کی شاعری میں استعمال ہونے لگا۔ راولپنڈی جھنڈا چیچی کے مقام ایک طرحی مشاعرہ پر استاد الشعراء سائیں پشوری کے شاگردان ذاکر جہلمی، نذر شاہ مضطر نے آپ کو استاد کے خطاب سے نوازا۔
بابا شیرزمان یکم اکتوبر 2002 کی رات کچھ اس طرح رخصت ہوئے کہ ساری زندگی ایاک نعبد و ایاک نستعین نی پٹڑی اپر گزاری او وقت آ گیا کہ لبیک آخاں کلمہ طیبہ آپ کی زبان پہ تھا اور آپ دنیا فانی کو خیر آباد کہتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
آپ کے پوٹھوہاری کلام کی کتاب "عشق رمزاں" کے نام سے ان کے صاحبزادے جناب یاسر کیانی صاحب نے ان کی زندگی میں ترتیب دی تھی اور 2003 میں شائع کروائی تھی۔ عشق رمزاں کی علمیت کا انداہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے علاقائی زبانوں کے ایم فل کے نصاب کا حصہ بھی ہے۔
نمونۂ کلام
زاہد چھیڑ نہ مینوں نبیڑ اپنڑیں
آپو اپنڑا سفر حیات دا ای
سانجھی گور نہ شور فرشتیاں دا
تینوں خدشہ لاحق کہڑی بات دا ای
نفسو نفسی دے عالم وچ حشر ہوسی
واقف کوئی نہ قسمت برات دا ای
تیری میری نہ کاوش فقیر مرزا
فقط بخشش زریعہ نجات دا ای
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہاں خاکی تے خاک وچ گم ہستی
روح خاک وچ خاطر فیکون پھرناں
دتا نفی خمار نہ ہوش مینوں
باغی ہوش تھیں میرا مضمون پھرناں
اُچا فلسفہ منطق تصوراں تھیں
میرے فکر نوں لے کے جنون پھرناں
دیونڑ مرزے نے سخن صواد کیوں نہ
حرف حرف وچ جگر نا خون پھرناں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سوکھا سخن نہ آوے زبان اُتے
نکلے تپش بن نائیں کلام اندروں
پہنچے اوج پر موجِ دلیل نائیں
جیکر جگر پلاوے نہ جام اندروں
بنڑاں خار ببول ہر بال جدوں
جانڑیں زخم بن سارے مسام اندروں
تدوں مرزیا حشر سامان لے کے
آوے شعر کرناں قتلِ عام اندروں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تکھی مستی نہ موسم نی رُت بانکی
میری اُٹھ دی جوانی پیار لُٹ لئی
دیدے کاسہ نما ہوئے دید خاطر
رہندی نظر تیرے انتظار لُٹ لئی
بخشی زندگی مولا دن چار جہڑی
اُس دی رونق سب تیرے انکار لُٹ لئی
تیرے ہجر کر خانہ بدوش مرزا
میری زندگی نی ساری بہار لُٹ لئی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مرتب؛ فخر عباس جعفری
No comments:
Post a Comment
Note: only a member of this blog may post a comment.