سائیں محمد صادق صدیق
سائیں محمد صدیق کا اصل نام محمد صادق تھا آپ کے والد گرامی کا نام قائم دین تھا۔ آپ 1920 کو ضلع اسلام آباد کے مشہور گاؤں چراہ کے موضع کلیاہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے چراہ سے ہی چوتھی کلاس تک تعلیم حاصل کی، کچھ عرصہ بعد فوج میں ملازم ہو گئے۔ ملازمت چونکہ آپ کی طبعیت سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، اس لیے ملازمت ترک کر کے آپ نے فقیرانہ و درویشانہ طرز زندگی کو اپنا لیا۔ آپ کے پیر و مرشد سید امداد حسین شاہ آف گوجرخان تھے، جن کی جانب سے آپ کو شہنشاہ پوٹھوہار کے لقب سے نوازا گیا۔ آپ کی ایک کتاب "فقر و عشق" شائع ہو چکی ہے۔ سائیں صدیق سرکار درویش منش انسان تھے، اس لیے کبھی بھی اپنے ذاتی مکان میں رہائش پزیر نہیں ہوئے۔ اپنی درویشانہ اور فقیرانہ طبعیت کی وجہ سے آپ نے سادہ زندگی بسر کی اور شادی بھی نہیں کی۔ آپ نہ صرف بہت اچھے شاعر تھے بلکہ فن شعر خوانی سے بھی خوب واقف تھے۔ بہت ہی اچھے ستار نواز تھے اور ہر قسم کی سُروں، راگوں اور راگنیوں سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ سائیں صدیق صاحب کی وفات 6 دسمبر 1981 کو عصر کے وقت ہوئی۔ آپ کی قبر آپ کے پیر و مرشد کے حکم پر کلیاہ کے چھوٹے قبرستان میں کی گئی۔ دعا ہے مالک آپ کے درجات مزید بلند فرمائے، آمین۔
نمونۂ کلام
حدیث رسالت سے فیصلہ ہے
جاہلاں اگے حقیقت نوں کھولئیے نہ
نقطہ چین اسلام دے چوراں اگے
سچے موتیاں دی مالا رولئیے نہ
ناقص پونڈاں دی جہڑے غذا منگدے
انہاں اگے کستوریاں ڈولئیے نہ
جنس ملے صدیق تاں گل بنڑدی
ناجنساں اگے سخن پھولئیے نہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کفن میرے اتے لکھ دینا
یاعلیؑ مدد کر میری مرتضےٰ حیدرؑ
پُچھسن قبر وچ منکر نکیر میں تھیں
کی آکھساں تیرے سوا حیدرؑ
میں امانت تیری روزِ میثاق دی آں
تکن غیر کیوں پردہ اُٹھا حیدرؑ
میرا دین ایمان صدیق سائیاں
صاف آکھساں مشکل کشا حیدرؑ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کنکراں وچ جو گوہر سچے
دیون کیویں شناخت نابینیاں نوں
اندھے عقل دے سیاہ دل کی جانن
جوہری پرکھدے لعل نگینیاں نوں
قدر پھولاں دا بلبل تے پہور جانن
جنہاں خار کیتے پھٹ سینیاں نوں
نہیں سی اصل صدیق پہچان ہوندی
جے رب پیدا نہ کردا کمینیاں نوں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مرتب؛ فخر عباس جعفری
No comments:
Post a Comment
Note: only a member of this blog may post a comment.