محمد عزیز نسیم
محمد عزیز نسیم 1928 کو جناب فتح محمد صاحب کے گھر حیال پنڈورہ، سر صوبہ شاہ، تحصیل کلر سیداں، سابقہ تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے. آپ نے پرائمری تک تعلیم سر صوبہ شاہ کے مقامی سکول سے حاصل کی، بعد ازاں آپ علاقے کی روایت کے مدِ نظر 1943 میں برطانوی فوج میں بھرتی ہو گئے، لیکن قیام پاکستان سے کچھ پہلے 1946 میں برطانوی فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر واپس گاؤں آ گئے۔ آپ کی پہلی شادی 1946 میں اور دوسری شادی 1966 میں ہوئی۔ آپ نے شعر کہنے کا آغاز 1943 میں پنجابی پوٹھواری زبان میں کیا، آپ کے چو مصرعے آج بھی خواص و عوام میں مقبول ہیں۔ آپ مقبول شاعر سائیں نادر خان زار کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ آپ کا مجموعۂ کلام "ذوقِ نسیم" 2004 میں شائع ہوا۔ آپ کے ہم عصر شعراء میں سید نذر حسین شاہ مضطر، راولپنڈی اور شیر زمان مرزا سکنہ سکرانہ، تحصیل کلر سیداں، ضلع راولپنڈی شامل ہیں۔
نمونۂ کلام
پیدا پیار نال کر کے پیار کردا، بڑا کرم تے بڑے احسان دی گل
غربت دولت دی فیر آزمائش کردا، پردے وچ رکھدا اے امتحان دی گل
خفیہ راز سارے کھلسن اوس ویلے، رو برو جدوں ہوسی میزان دی گل
کامل صدق تاں ثابت نسیم ہوندا، ہر ہر گل وچ ہووے رحمان دی گل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
باراں ربیع الاول تے پیر دا دن، ساڈے آقاؐ سرکار تشریف لائے
خبر ملدی رہی پیغمبراں نوں، اک لکھ چوّی ہزار تشریف لائے
کایا کل کائنات دی پلٹ گی، نال خلق پیار تشریف لائے
ہو گئی ختم نبوتؐ نسیم ان پر، جدوں احمدؐ مختار تشریف لائے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مرتب؛ فخر عباس جعفری
پنجابی پوٹھواری پوٹھوہاری پہاڑی شاعری
No comments:
Post a Comment
Note: only a member of this blog may post a comment.