Thursday, 22 June 2023

امرتا پریتم (شخصی و علمی تعارف و حالات زندگی)

 امرتا پریتم 

امرتا پریتم کا جنم 31 اگست 1919 کو گوجرانوالہ، پنجاب، متحدہ ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں ہوا۔ ان کا پیدائشی نام امرت کور تھا، امرتا ان کا قلمی نام اور شادی کے بعد کا نام ہے۔ آپ کے والد کا نام گیانی کرتار سنگھ ہتکاری اور والدہ کا نام راج کور تھا۔ والدہ سکول کی استاد اور والد شاعر اور سکالر تھے۔ والدہ کے انتقال کے بعد امرتا جی اپنے والد کے ساتھ لاہور آ گئیں، جہاں وہ 1947 تک مقیم رہیں۔ 1947 میں بھارت ہجرت کر گئیں اور دہلی میں مقیم ہو گئیں۔ امرتا جی کا انتقال طویل علالت کے بعد 31 اکتوبر 2005 کو چھیاسی سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

ابتدائی زندگی

آپ کے والد کا نام گیانی کرتار سنگھ ہتکاری تھا، جو لاہور میں رنجیت نگارہ کے ایڈیٹر بھی تھے۔ چونکہ والدہ اور والد دونوں کا تعلق علمی بیک گراؤنڈ سے تھا، اس پہ لاہور کے ادبی و علمی ماحول کا رنگ بھی چڑھ گیا۔ والد کی تربیت اور سرپرستی نے جلد ہی آپ کو اردو، ہندی، پنجابی اور گورمکھی میں مشاق بنا دیا۔ والدہ کی موت کے بعد انہوں نے خود کو مصروف رکھنے کے لیے نثر نگاری کو اپنا لیا۔ آپ نے پنجابی شاعری کا گیان اپنے والد گیانی کرتا سنگھ جی سے حاصل کیا۔

ازدواجی زندگی

سن 1936 میں ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ ”امرت لہراں“ کے نام سے شائع ہوا۔ اسی سال ان کی پہلی شادی پریتم سنگھ سے ہو گئی جو لاہور کے انارکلی بازار میں ہوزری کے بہت بڑے تاجر تھے۔ پریتم خود اس وقت مقامی اخبار کے مدیر تھے۔ پریتم سنگھ سے شادی کر کے انہوں نے اپنا نام امرت کور سے امرتا پریتم رکھ لیا۔ پریتم سنگھ سے ان کی دو اولادیں پیدا ہوئیں، ایک بیٹی کندلا اور ایک بیٹا نوراج۔ 1960 دونوں کے مابین طلاق ہو گئی، جس کی وجہ ساحر لدھیانوی بنے۔ ان کی دوسری شادی امروز سے ہوئی جو ایک مصور، فنکار اور مصنف تھے۔ امروز کی صحبت نے ان کی زندگی میں سکون بخشا اور اس ذہنی ہم آہنگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں زندگی کے آخری چالیس سال امروز کے ساتھ گزار دئیے۔ امروز نے ان کی بیشتر کتابوں کے سرورق ڈیزائن کیے اور انہیں اپنے ہاتھ کی بنائی گئی کئی تصویروں کا موضوع امرتا کو بنایا۔

ریڈیو پر ملازمت

امرتا پریتم نے تقسیم ہند سے قبل آل انڈیا ریڈیو کے لاہور ریڈیو سٹیشن پر بھی کام کیا تھا۔ 1961 میں آل انڈیا ریڈیو دہلی کی پنجابی سروس میں دوبارہ سے کام آغاز کیا۔ اس کے علاوہ وہ کئی سالوں تک پنجابی زبان کے ایک ماہانہ ادبی رسالہ ناگ منی کی مدیر بھی رہیں، جہاں انہیں اپنے جیون ساتھی امروز کا ساتھ حاصل تھا اور یہ ساتھ امرتا کے مرتے دم تک رہا۔

تصانیف

امرتا پریتم کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول، ترجمے اور تنقیدی مضامین شامل ہیں۔

 امرت لہراں*

لوک پیڑ*

پنجر*

سنیہڑے*

  انچاس دن*

نویں سیر*

کالا گلاب*

رسیدی ٹکٹ*

اکشروں کے سائے (لفظوں کے سائے)*

فلم

ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے حوالے سے ان کے ایک ناول ”پنجر“ پر اسی نام سے ایک فلم بھی بنائی جا چکی ہے۔

اعزازات

ڈاکٹر آف لٹریچر دہلی یونیورسٹی1973*

بین الاقوامی واپسٹروف ایوارڈ بلغاریہ 1979*

ڈاکٹر آف لٹریچر جبل پور یونیورسٹی 1987*

Ordre_des_arts_et_des_lettrs_Officer  فرانسیسی حکومت کی طرف سے*

 رکن بھارتی ایوانِ بالا 1986 تا 1992*

پدم شری 1969*

گیان پتھ ایوارڈ 1982*

پدم بھوشن 2004*

پنجابی اکیڈمی ایوارڈ پاکستان*

ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 2004*

بھارت سرکار نے کتاب سنیہڑے پر 5000 انعام دیا*

نویں سویر“ کی اشاعت پر 500 انعام ملا”*

معاشقہ

ساحر لدھیانوی کے ساتھ ان کا معاشقہ ادبی دنیا کے مشہور معاشقوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی تفصیل آپ کو ان کی سوانح عمری ”رسیدی ٹکٹ“ میں مل سکتی ہے۔ 

“بٹوارے نے صرف ملک ہی نہ بانٹے، میری محبت بھی بانٹ ڈالی”

“ٹوٹ جائیں وہ پٹڑیاں اور چھوٹ جائیں وہ گاڑیاں جو تم کو مجھ سے دور لے جاتی ہیں۔”

نمونۂ نثر: امرتا پریتم

”مرد نے عورت کے ساتھ ابھی تک سونا سیکھا ہے جاگنا نہیں، اس لیے مرد اور عورت کا رشتہ الجھن کا شکار رہتا ہے“

”شاید زندگی ہمیں اپنے گھر بُلا کر مہمان نوازی کرنا بھول گئی“

”خوشیاں خوبصورت جسموں کے لیے ہوتی ہیں، جبکہ غم خوبصورت روحوں کے لیے“

”محبت کو کچھ عرصے بعد ایک ٹوٹی ہوئی جوتی کی طرح گھسیٹنا پڑتا ہے“

شہرہ آفاق نظم

اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتوں قبراں وچوں بول

تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وَین

اَج لَکھاں دھیآں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کَیہن

اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب

اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

نمونۂ پنجابی شاعری

زندگی

تُوں میری کتاب دا اِک خالی صفحہ

تے جہدے اُتے خامخاہ سبھناں دی نظر جاندی ہے

میں جو ہُن کتاب وچوں نکل کے

کتاب دے اُتے، اِک جلد وانگ چڑھی ہاں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

زندگی تصویر وی اے، تے تقدیر وی اے

من چاہے رنگاں نال بن جائے، تے تصویر

تے ان چاہے رنگاں نال بنے، تاں تقدیر

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وے سائیں 

تیرے چرکھے نے

اج کت لیا کتن والی نُوں

نمونۂ اردو شاعری

ایک درد تھا

جو سگریٹ کی طرح

میں نے چپ چاپ پیا ہے

کچھ نظمیں ہیں

جو سگریٹ سے میں نے

راکھ کی طرح جھاڑی ہیں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تیرے عشق کی

اک بوند

اس میں مل گئی تھی

اسی لیے میں نے

عمر کی

ساری کڑواہٹ پی لی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سائیں! تُو اپنی چلم سے

تھوڑی سی آگ دے دے

میں تیری اگر بتی ہوں

اور تیری درگاہ پر مجھے

ایک گھڑی جلنا ہے

یہ تیری محبت تھی

جو اس پیکر میں ڈھلی

اب پیکر سلگے گا

No comments:

Post a Comment

Note: only a member of this blog may post a comment.