ڈاکٹر فقیر محمد فقیر
ڈاکٹر فقیر محمد فقیر 5 جون، 1900سن عیسوی کو گوجرانوالہ، پنجاب، متحدہ ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد صادق تھا، فقیر محمد فقیر آپ کا قلمی نام ہے۔ آپ کے والد محترم کا نام حکیم میاں لال دین ٹھاکر تھا، آپ کے آباء و اجداد کا تعلق موضع راول پور، سری نگر، متحدہ ریاست جموں و کشمیر سے تھا۔ 1857 کی تحریک آزادی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے تناظر کے علاوہ خاندان کے ایک بزرگ کے ہندو مت کو ترک کر کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کے حالات کی وجہ سے کشمیر سے شمالی پنجاب کی جانب ہجرت کا سوچ لیا۔ قبول اسلام کے بعد بزرگوار کا اسلامی نام میاں محمد بخش ٹھاکر رکھا گیا۔ دوران ہجرت کشمیر کے موسمی حالات کے باعث میاں محمد بخش ٹھاکر سفر میں بیمار پڑ گئے اور منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ فقیر محمد اپنی سوانحۂ عمری میں اپنے کشمیری آبائی گاؤں کا تذکرہ یوں کرتے ہیں؛
تخت کئیاں دے نیں کئیاں دی بنے جدی وطن
پر میرے وطنوں نیں سارے جگ دے ردی وطن
ہاں گیا کشمیر پر ڈِٹھا نہ راول پور فقیر
دیس اوہ میرے بزرگاں دا میرا جدی وطن
آپ جب 12 سال کی عمر کو پہنچے تو آپ کے والد حکیم میاں لال دین صاحب رضائے الہیٰ سے انتقال فرما گئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول گوجرانوالہ سے حاصل کی، والد کی ناگہانی وفات کے بعد کے مشکل ترین حالات کے باوجود پنجاب ہومیوپیتھک کالج گوجرانوالہ سے ہومیو پیتھی کی ڈپلومہ لیول کی طبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیچلر آف ہومیو پیتھک میڈیسنز اینڈ بائیو کیمک میڈیکل سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کے نواسے محمد جنید اکرم مدیر پنجابی، پروفیسر اورنگزیب اکرم، ممتاز دانشور ڈاکٹر جاوید اکرم اور اداکار سہیل احمد بھی ادب اور فنون لطیفہ سے منسلک ہیں۔ ڈاکٹر فقیر محمد فقیر 11 ستمبر، 1974 کو گوجرانوالہ میں وفات پا گئے، ان کی وصیت کے مطابق انہیں حضرت مبارک شاہ کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
عملی زندگی کا آغاز
ڈاکٹر فقیر محمد فقیر نے طبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز 1923 میں خاندانی روایات کے مطابق حکمت کے شعبے سے کیا۔ بعد ازاں آپ نے اپنے استاد کی ایماء پر بطور ٹھیکیدار میونسپل کارپوریشن اور ملٹری کے محکمہ میں سپلائی کا کام بھی شروع کر دیا اور پاک تعمیرات کے نام سے اپنی ذاتی تعمیراتی کمپنی بھی قائم کی۔
شاعری و ادب کی خدمات
ڈاکٹر فقیر محمد فقیر صاحب نے شاعری کب شروع کی، اس بات کا تذکرہ وہ اپنے ایک مضمون ’’میری آپ بیتی‘‘ میں یوں کرتے ہیں کہ؛ ’’1915 کے ابتدائی ایام میں اپنے والد حکیم میاں لال دین مرحوم و مغفور کی وفات پر میں نے اچانک اپنی طبیعت کو شعر گوئی کی طرف مائل پایا‘‘ گویا کم سِنی ہی میں انہوں نے یہ مرثیہ نما شعر کہا؛
دل دی وسدی بستی اُجاڑ میری واسی آپ نیں کِتے سدھار چلے
رونا دے کے میریاں اکھیاں نوں لے کے دل دا صبر قرار چلے
آپ نے شروع میں استاد ابراہیم عادل کی شاگردی اختیار کی اور شاعری میں تقریباً تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، آپ کی پنجابی شاعری میں غزلیں، رباعیاں، دو مصرعے اور دوہڑے شامل ہیں۔ پنجابی شاعری اور نثر نگاری سے بے پناہ لگاؤ کے ساتھ وہ دیگر زبانوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ آپ کا پہلا باقاعدہ شعری مجموعہ ’’صدائے فقیر‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا ہے۔ 1930 کے بعد آپ کا رجحان رُباعیات اور غزل گوئی کی جانب مائل ہوا۔ مولانا ظفر علی خان اور جسٹس شیخ دین محمد جیسے دوستوں کی ایماء پر آپ کا رجحان تحریک آزادی کی جانب مائل ہوا۔ پنجابی زبان کی قدیم کلاسیکی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آپ نے وارث شاہ کی بحر میں ہیر لکھنے کا تجربہ بھی کیا۔ آپ پنجابی کے صوفی شعراء کے کلام کو منظر عام پر لانے کے لیے اپنے حصے کا کام کرتے رہے۔ ان کا مرتب کردہ غیر مطبوعہ مسودہ آج بھی مرحوم ارشد میر کی ذاتی لائبریری میں محفوظ ہے۔ اسی زمانے میں ان کی پہلی کتاب ’’نیلے تارے‘‘ کے نام سے منظر عام پہ آئی جسے ’’رباعیاتِ فقیر‘‘ کا نام بھی دیا گیا تھا۔ پنجابی زبان میں منظوم داستان گوئی کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ نے جواں عمری ہی میں ایک مثنوی ’’سنگی‘‘ تحریر کی جو کہ 894 صفحات پر مشتمل ہے۔ آپ نے سسی پنوں کے عشق کو مسدس نظم ’’دامن‘‘ کی صورت میں تحریر کیا۔ پنجابی زبان و ادب کے لیے آپ کی گراں قدر خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ’’بابائے پنجابی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فقیر کو پنجابی رُباعی کا باوا آدم بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے عبدالمجید سالک کی معیت میں 1951 میں پنجابی زبان کا اولین رسالہ ’’پنجابی‘‘ جاری کیا، رسالے کے لکھاریوں میں مولانا عبدالمجید سالک، سید عابد علی عابد، ڈاکٹر محمد باقر، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم، ملک لال دین قیصر، عبدالمجید بھٹی، چودھری محمد اکبر خاں، وقار انبالوی، مولانا محمد بخش مسلم، مولا بخش کُشتہ،بابو کرم امرتسری، فضل حسین فضل گجراتی، قتیل شفائی، جوشو افضل دین، سید مرتضیٰ جیلانی، شریف کنجاہی، سجاد حیدر، استاد ابراہیم عادل، سید ممتاز علی شاہ، چودھری محمد افضل خاں، میاں الیاس ثالث اور میر محمد علی شمیم شامل تھے۔ آپ نے ڈاکٹر محمد باقر کی معیت میں ’’پنجابی ادبی اکادمی‘‘ قائم کی جس کے تحت پنجابی زبان و ادب کی متعدد قدیم و جدید کتابیں شائع ہوئیں۔ جن میں کلیاتِ بُلھے شاہ، ہیر وارث شاہ، ہیر شاہ جہان مقبل، میاں محمد بخش کی سیف الملوک، نادر شاہ دی وار از نجابت، پیر محمد کی چٹھیاں دی وار، شاہ محمد کی سِکھاں دی وار، پیلو کی مرزا صاحباں، حافظ برخوردار کی مرزا صاحباں، کلیاتِ ہدایت اللہ از میاں ہدایت اللہ، کلیاتِ علی حیدر ملتانی، کُکارے، کُلیاتِ ہاشم شاہ اور بول فریدی از بابا فریدالدین گنج شکر شامل ہیں۔ جبکہ دیگر کتب میں صدائے فقیر، نیلے تارے، مہکدے پھول، ستاراں دن، چنگیاڑے، مناظر احسن گیلانی کی النبی الخاتم اور عمر خیام کی رباعیات کے منظوم تراجم شامل ہیں۔ آپ نہ صرف نامور حکیم، فلسفی، شاعر، ادیب،نقاد، مفکر، محقق اور مدیر تھے بلکہ بہت اچھے ملنسار انسان بھی تھے۔ آپ نے اردو سائنس بورڈ کے لیے اردو زبان کی تاریخ بھی مرتب کی۔
پنجاب یونیورسٹی شعبہ پنجابی
ڈاکٹر فقیر محمد فقیر آپ نے پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ پنجابی کے اجراء کے لیے ہر طبقے کے سرکردہ افارد کو ساتھ ملا کر ایک بھرپور تحریک کی اور آپ بڑے قسمت تھے کہ ان کی زندگی میں پنجابی شعبے کا باقاعدگی سے کام شروع ہو گیا۔ پنجابی زبان کے اس انتھک سیوک کو اس صلے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی دی جا چکی ہے۔
تحریک آزادی کے لیے عملی اقدام
سال 1946 میں جب قائداعظم محمد علی جناح گوجرانوالہ تشریف لائے تو بہت سے متمول لوگوں نے انہیں چندے کے طور پر خطیر رقوم پیش کیں۔ ان میں ایک وجیح شخص بھی شامل تھا، جس نے اپنی گاڑی کی چابیاں قائداعظم کی خدمت میں پیش کیں اور کہا؛ ’’گر قبول افتد زہے عزّو شرف‘‘۔ قائد اعظم فرمانے لگے؛ ’’بہت اچھے فقیر! تم نام کے فقیر اور دل کے امیر ہو میں تمہارے اس تحفے کی قدر کرتا ہوں‘‘۔
تصانیف
صدائے فقیر*
پاٹے گلے*
نیلے تارے*
بول فریدی*
مرزا صاحباں*
سوہنی مہینوال*
ابیات علی حیدر*
مہکدے پُھل*
چنگیاڑے*
ستاراں دن (ترانے)*
تاریخ گوجرانوالہ*
پنج ہادی*
النبی الخاتمؐ*
موآتے (پنجابی نصابی کتاب)*
(پنجابی نصابی کتاب) پنجابی دی پہلی کتاب*
(پنجابی نصابی کتاب) پنجابی دی دوجی کتاب*
(پنجابی نصابی کتاب) پنجابی دی تیسری کتاب*
پنجابی زبان و ادب دی تاریخ*
رباعیات عمر خیال (منظوم اردو ترجمہ)*
نمونۂ کلام
کر گئی اے زمانے نوں محمدؐ دی ادا مست
دنیا اے جُدا مست تے عُقبیٰ اے جُدا مست
دل مست فقیر ہووے نہ کیوں ہین جدوں آپؐ
درویش، خُدا دوست، خُدا صفت، خُدا مست
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
چہرہ تیرا اے سادہ طبیعت تیری اے چور
دل اے تیرا کجھ ہور تے دل دی ہوس کجھ ہور
بندے دے دل دا نور اے ہوندا نظر دا نور
باطن تیرا اے کور جے دیدے تیرے نیں کور
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تھے ہوت آ سسی دے باغ اندر چوغے کار چوبی زرنگار دامن
شعلہ رُو جاں حشر دی چال چلن مارن بجلیاں وانگ لشکار دامن
پتے پُچھیاں جدوں بلوچ دسن لوکیں چُمدے نال پیار دامن
کنبدے پھرن دل کئیاں نمانیاں دے کھلے چھڈ کے میر شکار دامن
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تُوں کی جانے بُھکھ ننگ نُوں تُوں کی جانے تنگی
تُوں کی جانے کویں بتاوے خلقت بُھکھی ننگی
تُوں کی جانے بے سُرتاں دی سُرت سنبھالے کیہڑا
رنگ جنہاں دے بھنگ اے پاؤندی تیری رنگا رنگی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یاراں باجھ سہاندی ناہیں لگی محفل یاراں دی
ہسدی باجھ بہاراں دے نہ رُت کھڑی گلزاراں دی
لبھن ہار شنگار نہ اوہدیاں زلفاں دے پرچھاویں کیوں
روپ جہدے بن عزت پت نہ رہندی ہار شنگاراں دی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بھے بھائی دا، پنڈت دا، پجاری دا نہ کر
کجھ فکر توں حافظ دا تے قاری دا نہ کر
موت آئی اے سبھناں نوں تے آؤنی ایں سبھ نوں
توں غم کوئی فقیرؔ اپنی واری دا نہ کر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بنھ لے ہاں فقیر اک نشانہ کوئی
توں آپ وی سن میرا فسانہ کوئی
انگنت گناہ میرے نے بے انت بہانے
بخشش تیری لبھدی اے بہانہ کوئی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دین مذہب دے سودے سارے
ویچن پئے مذہبی ونجارے
آسے سوٹے پھوڑ مصلّے
درس کوقتے وعظ کولّے
جبہ ٹوپی تسبیح داڑھی
لاں بوکا وٹوانی داڑھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اک گلی وچ چار مسیتاں
ہر مسجد دیاں اپنیاں ریتاں
فتوے بازی بدھی پلے
کھریاں گلاں کھوٹیاں نیتاں
No comments:
Post a Comment
Note: only a member of this blog may post a comment.